Skip to main content

Posts

Featured

"غریب گھر کا حکمران"

  تحریر : باسط علی یہ کہانی ایک ایسے گاوں کی ہے جہاں حصول تعلیم صرف اُمراءکا مشغلہ سمجھا جاتا تھا،سارے کا سارا گاوں ان پڑھ تھا۔ پورے گاوں میں کوئی سکول نہیں تھا،البتہ گاوں سے باہر ڈیڑھ میل کی مسافت پہ ایک پرائمری سکول تھا۔ پاک و ہند گونڈی بارڈر کے قریب کے علاقے کو مانجھے کا وسیب کہا جاتا ہے۔ملنگی ،بھگت سنگھ اور نظام لوہار کا تعلق اسی علاقے سے تھا۔ ڈیرہ چاہل کی بستی اسی علاقے میں واقع ہے۔ ۱۹۱۶ میں اس بستی میں غریب کسان کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس بچے کو بچپن ہی سے پڑھنے کا بے حد شوق تھا، اپنا شوق پورا کرنے کے لئے والدین سے بے حد اصرار کے بعد اس نے دوسرے گاوں کے سکول میں داخلہ لے لیا۔ یہ روزانہ ڈیڑھ میل پیدل سفر کر کے سکول آتا جاتا۔ اس نے پرائمری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مڈل سکول جانے کی آرزو کا اظہار اپنے اہلخانہ سے کیا تو ناخواندہ والدین نےاس کی مزید تعلیمی عیاشی کی پرزور مزمت کی، اور زور دیا کہ اپنے دیگر بھائیوں کی طرح کھیتی باڑی کر کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالے۔ اس باہمت لڑکے نے ہمت نہیں ہاری اور محنت مزدوری کر کے گاوں سے آٹھ میل دور مڈل سکول گونڈی میں داخلہ...

Latest Posts

منصور حِلاج ؛ تاریخ اسلام کی ایسی متنازع شخصیت جن کے الفاظ دعویٰ خدائی کے معترف تھے، مگر وہ آج بھی ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔

Nizam Lohar the story of a mujahid (spy) who conspired against the British Empire