منصور حِلاج ؛ تاریخ اسلام کی ایسی متنازع شخصیت جن کے الفاظ دعویٰ خدائی کے معترف تھے، مگر وہ آج بھی ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔


کُرہ ارض پہ کچھ ایسے بادشاہ  اور شہنشاہ بھی گزرے ہیں جنہوں نے طاقت اور اقتدار کے نشےمیں خدا ہونے تک کا دعویٰ کر دیا۔ ان لوگوں کا دنیا میں بھی عبرتناک انجام ہوا، اور آخرت میں  خدائے بزرگ و برتر کا درد ناک عذاب ان کا منتظر تھا۔ لیکن اسی دنیا میں ایک ایسا ہی کردار گزرا ہے ، جن کے الفاظ دعویٰ خدائی کے مترادف تھے مگر وہ آج بھی ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آئیے  تاریخی تناظر میں اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اہل شریعت یعنی علماء حضرات منصور حلاج کو مرتد جبکہ اہل تصوف انہیں ولی اللہ گردانتے تھے۔ان کا پورا نام المغیث الحسین ابن منصور تھا۔آپ ۸۵۸؁ء کو ایران کے صوبہ فارس کے ایک قصبے الطور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد روئی دھننے کا کام کیا کرتے اسی نسبت سے آپ کو حلاج کہا جاتا ہے۔   آپ نے عمر کا ابتدائی حصہ عراق کے شہر  واسط میں گزاراجہاں کئی اساتذہ سے تصوف کی تعلیم حاصل کی۔  اس کے بعد آپ حضرت جنید بغدادی ؒ کے حلقہ نشین ہوئے۔ آپ کی بے باک گفتار اور کردار کے باعث آپ کی رفاقت زیادہ عرصہ تک جنید بغدادی ؒ کے ساتھ قائم نہ رہ سکی۔

اس کے بعد منصور حلاج نے کئی ممالک کی سیر کی، آپ نے ترکی ، چین ، مکہ مکرمہ اور ہندوستان کے کئی سفر کئے۔  منصور حلاج کے سفر ہندوستان کو ان کے مخالفین نہایت مشکوک قرار دیتے ہیں۔آپ کے مخالفین کا آپ پہ الزام ہے کہ آپ نے سفر ہندوستان کے دوران ہی ہندو جوگیوں سے جادو کا علم سیکھااور انہی جادوں کو بروئے کا ر لا کر شعبدے بازیاں اور کرامات دکھاتے ہیں۔ انہی کرامات کی بدولت ان کے مریدین کبھی آپ کے امام مہدی ہونے کا دعویٰ   کرتےتو کبھی انہیں عیسی ؑ سے تشبیع دیتے۔ لیکن یہ  دعوے خود منصور حلاج کی زبان سے ثابت نہیں۔

منصور حلاج پہ  سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ آپ اناالحق یعنی میں ہی حق ہوں کا نعرہ لگایا  کرتے تھے۔اُس دور کے بہت سے ولیوں نے منصور حلاج کو یہ نعرہ لگانے سے منع فرمایالیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نعرہ خود نہیں لگاتے بلکہ یہ نعرہ ان کے  اندر کوئی اور ذات لگاتی ہے۔بعض روایات میں آتا ہے کہ منصور حلاج کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا ان کے اندر حلول کر گیا ہے، جبکہ انہیں یہ خوب معلوم تھا کہ ان کا یہ عقیدہ مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے باوجود  صوفیاء کی اکثریت منصور حلاج کو حق پر گردانتے ہیں۔   حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ اپنی کتاب کشف المعجوب میں فرماتے ہیں؛

ؔ انہی میں سے ایک مستغرق معنی  ابو الغیث حضرت  حسین بن منصور  حلاج ہیں۔ آپ سر مستان بادۂ وحدت اور مشتاق جمال احدیث گزرے ہیں اور نہایت قویٰ الحال مشائخ تھے۔ (بحوالہ: کشف المعجوب، صفحہ:۳۰۰)

مولانا جلال الدین رومی ؒ منصور حلاجؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:

ؔ فرعون نے اناالحق کہا تو وہ ذلیل ہو گیا اور منصور نے انالحق کہا تو مست قرار پایا۔ فرعون کی خودی کے لئے تو بعد میں اللہ کی لعنت ہی رہ گئی اور منصور کی خودی کے لئےبعد میں اللہ کی رحمت ہی رحمت ہے۔

احمد رضا خان بریلوی سے سوال کیا گیا: کیا منصور حلاج نے ایسے  الفاظ کہے جن سے خدائی ثابت ہے، لیکن وہ ولی اللہ گنے جاتے ہیں اور فرعون ، شداد نمرود اور ہامان نے دعویٰ کیا تھاتو وہ مخلودوالنار ہوئے، اسکی کیا وجہ ہے؟ آپؒ نے جواب دیا :

ؔان کافروں نے خود کہااور ملعون ہوئےجبکہ منصور نے خود سے نہ کہابلکہ منصور میں اس مالک نے کہا جسے کہنا شایان ہے اور آواز بھی انہی سے مسموع ہوئی۔

شیخ فریدالدین عطار ؒ اور خواجہ نظام الدین اولیاء منصور حلاج کی بزرگی کے بہت زیادہ کائل تھے۔

ان تمام باتوں کے برعکس  منصور حلاج کے مخالف مکتبہ فکرکا کچھ اور ہی کہنا ہے۔امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم دونوں نے لکھا ہے کہ حلاج کافر تھےاور ان کے متعلق علماء کا فیصلہ بلکل ٹھیک تھا۔

سید سلمان ندویؒ نےابن سعدقرطبی، بغداد کے مشہور سیاح ابن ہوکل ،مورخ ابن ندیم، ابو علی بن مسکویا،مسعودی، علامہ ابنِ جوزی، ابن اسیراور امام الحرمین کی تواریخ کا حوالہ دے کر لکھا ہے:

ؔمنصور ایک شعبدہ باز اور گمراہ شخص تھا۔

یہاں بیان کئے گے تمام دلائل کے باوجود ایک غیر جانبدار محقق کے لئے منصور حلاج کے متعلق کسی حتمی رائے پرپہچنا امر محال ہے۔       چونکہ تاریخ میں منصور حلاج کی شخصیت ایک افسانوی روپ اختیار کر چکی ہے۔ آپ کے مخالفین اور حمایت کرنے والوں نےآپ کی شخصیت کو عجیب شاعرانہ وتمثیلی لباس سے مزین کر دیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ منصور حلاج کے بارے میں میانہ روی سے کام لیا جائے۔ بے شک اللہ عزوجل ہی اصل حقیقت سے با خبر ہے۔

وہ مشہور زمانہ مقدمہ جو منصور حلاج کی موت کا باعث بنا اس میں نہ تو اناالحق اور نہ ہی حلول و علویت کا تذکرہ تھا۔ اس مقدمے اور الزامات کی نوعیت سراسر سیاسی تھے۔ اس دور کے خلیفہ مقتدر بِلا کے دربار میں دو  بڑی شخصیات تھیں ؛ابن نصر کشوری جو ہاجب کے عہدے پر فائز تھا، اور وزیراعظم حامد بن عباس،دونوں سیاسی حریف تھے۔منصور حلاج اسی سیاسی اختلاف کا شکار ہوئے۔ ابن نصر کشوری جو منصور حلاج کا  بڑا معتقد تھا، اسی کی بدولت دربار خلافت کی بیگمات  خصوصاَ   متقدر بلا کی والدہ بھی منصور حلاج کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گئیں۔ طاقت کا بگڑتا ہوا توازن دیکھ کر وزیر اعظم حامد بن عباس نے منصور حلاج کو پابند سلاسل کردیا۔ قریبا نو سال تک ان پر مقدمہ چلایا گیا۔  کچھ عرصے بعدحامد بن عباس تنخواہ دار قاضی اور علماء حضرات سے زبردستی منصور حلاج کے قتل کا فتویٰ لینے میں کامیاب  ہو گیا۔  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فتویٰ میں حضرت جنید بغدادیؒ کے دستخط بھی شامل تھے،لیکن تاریخ کے تناظر میں حضرت جنید بغدادیؒ اس واقعہ کے تقریبا ۱۳ سال قبل اس دنیا سے وصال کر گئے تھے۔ 

فتویٰ کے بعد منصور حلاج کو جس سفاکیت اور درندگی کے ساتھ تختہ دار پہ لٹکایا گیا، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پہلے  ان کے جسم پر ہزار کوڑے برسائے گے۔پھر آپ کے ہاتھ پیر کاٹ کر بعد میں سر بھی تن سے جدا کر دیا گیا۔منصور حلاج نے اس تمام تر ظلم و ستم کے باوجود بے نظیر استقامت کا مظاہرہ کیا جو کسی جادوگر اور شعبدہ باز یا جادوگر کے بس کی بات نہیں تھی۔وہ تختہ دار پر جب تک زندہ رہےان کی زبان پہ احداحد کا ورد جاری رہا۔ ان کو قتل کروانے والا سفاک شخص وزیراعظم حامد بن عباس بھی بعد میں اسی طرح اذیت ناک موت مارا گیا۔ اس کے بھی پہلے ہاتھ پیر کاٹے گئے اور بعد میں اس کابھی ویسے ہی سر قلم کر دیا گیا۔   اس کے علاوہ مقتدربِلا  جس کے دور حکومت میں  منصور حلاج کو سزائے موت دی گئی تھی، وہ بھی ایک جنگ کے دوران بر بر لشکر کے ہتھے چڑھ گیا ، انہوں نے خلیفہ مقتدر بلا کا سر کاٹ  کر جسم بے لباس چھوڑ دیا اور خوب تشہیر کی۔

منصور حِلاج ایک صاحب حال تھے ، ہمیں ان کے بارے میں میانہ روی سے کام لینا چاہیے، بے شک اللہ تعالیٰ اصل حقائق جاننے والا ہے۔

(اس مضمون کا مواد کتاب اللہ کے ولی مصنف خان آصف سے لیا گیا ہے)

 

 


Comments

  1. Mansoor used to say Ahad Ahad till his death that ensures that. He was the real legend.........

    ReplyDelete

Post a Comment